🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا و نَعِيمِها
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9271
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ) ) قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ) ) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ) ) قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ) ) قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي قَالَ فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ ثُمَّ تَذَكَّرْتُ قَوْلَهُ ( (لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ) ) فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ فَقَالَ ( (ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ( (وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں نےکچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9271]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2388، 6268، ومسلم: ص 687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21674»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۴۲۸،۸۹۳۷)۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2388


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9271 in Urdu