الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَزُخْرُفِهَا و نَعِيمِها
دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9272
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ جَبَلٍ هَذَا) ) قُلْتُ أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا) ) قَالَ قُلْتُ قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (قِيرَاطًا) ) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9272]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21655»
وضاحت: فوائد: … قیراط= (255.1) ملی گرام
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
اس کے دو معانی ہیں: (۱) مالِ کثیر، (۲) ایک مقدارِ وزن جو مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے، مصر میں قیراط (100) رطل کے برابر ہوتا ہے اور رطل (393.660)گرام کے برابر ہوتا ہے، اس طرح ایک قیراط (39) کلو گرام سے زیادہ وزن بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہ یہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخاوت کے وصف سے بدرجۂ اتم متصف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا اور عملا اس وصف کو ثابت بھی کیا۔ غور فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے زور دے کر بات کر رہے ہیں کہ انھوں نے قیراط کی بجائے قنطار سمجھا، جس کی مقدار زیادہ ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21655
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9272 in Urdu