🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِيْمَا كَانَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْتَقْلِيلِ فِي الدُّنْيَا مِنْهَا بِالْكَفَافِ
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9291
عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّهُ أَفَعَجِبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ كَظِيظُ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ فَاتَّزَرَ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا وَسَتَبْلُونَ أَوْ سَتَخْبُرُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا
۔ خالد بن عمیر کہتے ہیں: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر کہا: اَمَّا بَعْدُ! پس دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور یہ جلدی پھرنے والی ہے، اب یہ اتنی ہی باقی رہ گئی، جتنا کہ برتن میں تھوڑا سا پانی باقی رہ جاتا ہے، جس کو اس کا مالک پی لیتا ہے، اور تم لوگ ختم نہ ہونے والے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو، پس اپنے پاس موجود بھلائی کے ساتھ منتقل ہو جاؤ، ہمیں یہ بات بتلائی گئی کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکا جاتا ہے اور وہ ستر سال گرتے رہنے کے باوجود اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا، اللہ کی قسم! اتنی وسیع جہنم کو بھر دیا جائے گا، کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمیں بتلایا گیا کہ جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، لیکن اس پر بھی ایک ایسا دن آئے گا کہ یہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا، میں نے خود دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے تھے،جس کہ وجہ سے گوشۂ دہن پر زخم ظاہر ہونے لگتے تھے اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اس کو اپنے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مابین دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، نصف سے انھوں نے ازار باندھ لیا، لیکن اب ہم میں سے ہر کوئی ایک ایک شہر کا امیر بن بیٹھا ہے، میں اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنے نفس میں تو عظیم سمجھوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کم قدرہوں، نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا، اور ہمارے بعد عنقریب تم بھی بادشاہوں کا تجربہ کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزهد: مسائل القناعة والاكتفاء بالقدر الضروري من الرزق/حدیث: 9291]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17718»
وضاحت: فوائد: … نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب نبی فوت ہو جاتا تو اس کے امتیوں میں بادشاہت شروع ہو جاتی، امت ِ مسلمہ کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2967


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9291 in Urdu