🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء فى فضل فقراء المهاجرين والمستضعفين
فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9312
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ فَقِيلَ مَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُنَاسٌ صَالِحُونَ فِي أُنَاسٍ سُوءٍ كَثِيرٍ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ قَالَ وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ قُلْنَا مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ فَقَالَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے: غُرَباء کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: غرباء کون لوگ ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت زیادہ برے لوگوں کے اندر پائے جانے والے نیک لوگ ہوتے ہیں، ان کی بات نہ ماننے والوں کی تعداد بات ماننے والوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ایک اور دن کی بات ہے، سورج طلوع ہو رہا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میرے امت میں سے ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے مراد ہم لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اور تم لوگوں میں بھی بڑی خیر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ فقراء مہاجرین ہیں، جن کے ذریعے ناپسندیدہ چیزوں سے بچا جاتا ہے اور ان میں جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کی ضرورت اس کے سینے میں ہوتی ہے، ان لوگوں کو زمین کے مختلف خطوں سے جمع کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9312]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6650»
وضاحت: فوائد: … فقراء مہاجرین کے جہاد کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو امن ملتا ہے، سینے میں ضرورت ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے دل کی خواہش پوری نہ کر سکے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے مہمان بن گئے۔

الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9312 in Urdu