🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء فى فضل فقراء المهاجرين والمستضعفين
فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9313
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فقراء مہاجرین بروز قیامت مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے سبقت لے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم لوگ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنے مال میں سے دے دیتے ہیں اور اگر چاہتے ہو تو ہم تمہارا معاملہ سلطان کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں، انھوں نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9313]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6578»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی تفصیلی روایتیوں ہے:
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: وَجَاء َ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالُوا یَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللّٰہِ مَا نَقْدِرُ عَلَی شَیْء ٍ لَا نَفَقَۃٍ وَلَا دَابَّۃٍ وَلَا مَتَاعٍ فَقَالَ لَہُمْ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَیْنَا فَأَعْطَیْنَاکُمْ مَا یَسَّرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا أَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ فُقَرَاء َ الْمُہَاجِرِینَیَسْبِقُونَ الْأَغْنِیَاء َ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ بِأَرْبَعِینَ خَرِیفًا قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَیْئًا۔)) … تین آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میں بھی ان کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا:اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، نہ خرچ ہے، نہ سواری، نہ مال ومتاع۔ سیدنا عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے کہا: تم کیا چاہتے ہو، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم فقراء مہاجرین قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان صحابہ نے کہا: ہم لوگ صبر کریں گے اور کچھ نہیں مانگے گے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2979


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9313 in Urdu