🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفُقَرَاءِ الْمَسَاكِينِ والتَّرْغِيْبِ فِي حُبِّهِمْ وَمُجَالَسَتِهِمْ
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9325
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اصْبِرْ يَا أَبَا سَعِيدٍ فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ) )
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9325]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني أخرجه البيھقي في الشعب: 1473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11399»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اسْتَعِدَّ لِلْفَاقَۃِ۔)) تو پھر فقر و فاقہ کے لیے تیار ہوجائو۔ (مسند بزار: ۴/۲۲۹/۳۵۹۵، صحیحہ:۲۸۲۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین پیروکاروں میں غریب اور فقیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اہل کتاب کے مذہبی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ انبیا و رسل کی اطاعت کرنے والوں کا حال بھییہی تھا۔ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تلک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں کی اکثریت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا رہی۔
قارئین کرام! بلا شک و شبہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس نعمت کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہی دولت ان کے لیے اسلام سے غفلت برتنے کا سبب بن گئی اور ان کے مزاج تبدیل ہو گئے اور علم
شریعت سے جاہل ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی مرضی اور سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے جن لوگوں نے جانوںکے نذرانے پیش کیے، طویل طویل سفر کیے، علم شریعت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا، قرآن مجید کو سمجھنے، اسے یاد کرنے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کے لیے خوب تگ و دو کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کا عملی اور علمی دفاع کیا، چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد کا تعلق غریبوں سے رہا ہے۔
اگر آج بھی جائزہ لیا جائے تو جو لوگ جہاد کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے، شرعی تعلیمات کی تبلیغ کرنے، قرآن مجید حفظ کرنے، مساجد کی صفائی کرنے اور ان میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور خلقِ خدا کی خدمت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی اکثریتکا تعلق غربت سے ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ہم کسی مخصوص امیریا غریب فرد پر نہیں، بلکہ ماحول پر بحث کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں، جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9325 in Urdu