🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفُقَرَاءِ الْمَسَاكِينِ والتَّرْغِيْبِ فِي حُبِّهِمْ وَمُجَالَسَتِهِمْ
فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ) ) قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَقَالَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَرْبَعُمِائَةِ عَامٍ) ) قَالَ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيِّلًا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ ( (هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بُعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ وَهُمُ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنِ الْأَبْوَابِ) )
۔ بعض صحابۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فقیر مؤمن جنت میں غنی مسلمانوں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: حسن تو چالیس برسوں کا ذکر کرتا ہے؟ لیکن انھوں نے اصحاب ِ رسول کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو چار سو سال کی بات کی ہے، یہاں تک کہ غنی آدمی کہے گا: کاش میں بھی بہت زیادہ محتاج ہوتا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان فقیروں کی صفات بیان کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کا موقع آتا ہے تو ان کو بھیجا جاتا ہے، لیکن جب غنیمت کی باری آتی ہے تو اوروں کوروانہ کیا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو (وڈیروں کے) دروازوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9318]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23491»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9319
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَهُوَ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فقراء مسلمان، مالدار مسلمانوں سے نصف یوم یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9319]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8502»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9320
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9320]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 3987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12504»
وضاحت: فوائد: … غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9321
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَإِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ فَكَفَّ الْقَارِئُ فَقَالَ ( (مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ) ) فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَحَلَّقَ بِهَا يُومِئُ إِلَيْهِمْ ( (أَنْ تَحَلَّقُوا) ) فَاسْتَدَارَتِ الْحَلْقَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي قَالَ فَقَالَ ( (أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، صورتحال یہ تھی کہ پردہ کرنے کے لیے بعض لوگ بعض کی اوٹ میں چھپ رہے تھے اور ایک قاری ہم پر تلاوت کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کا کلام سن رہے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، تاکہ اپنے نفس کو ان میں شمار کروائیں، پس قاری نے تلاوت بند کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک قاری ہم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنایا اور اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح حلقہ بنا لو۔ پس لوگ گھوم کر حلقے میں بیٹھ گئے، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فقیروں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، تم مالدار لوگوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9321]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3666،والترمذي: 2351، وابن ماجه: 4123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11626»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9322
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ) ) فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ قَالَ قُلْتُ هَذَا قَالَ ( (انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ) ) قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ قَالَ قُلْتُ هَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهَذَا أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! دیکھ، مسجد میں کون آدمی سب سے زیادہ رفعت والا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا، اچانک ایک آدمی نظر آیا، اس نے عمدہ پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی تھی، میں نے کہا: یہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اب دیکھ، مسجد میں کون سا آدمی سب سے کم درجہ ہے؟ میں نے دیکھا، ایک آدمی نے چیتھڑے پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: جی یہ ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ (کم درجہ) آدمی روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس (رفعت والے) زمین بھر افراد سے بہتر ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 222، والبزار: 3979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21825»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9323
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ وَالنِّسَاءَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا، پس وہاں کے اکثر لوگوں کو فقیر دیکھا، پھر جب میں نے جہنم میں جھانکا تو وہاں کے اکثر لوگوں کو مالدار اور عورتیں پایا۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9323]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله الاغنيائ، أخرجه ابن حبان: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6611»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9324
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ قَالَ ( (وَأَنْتُمْ تَصُومُونَ وَتُصَلُّونَ وَتَحُجُّونَ) ) قُلْتُ يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ ( (وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ وَبَيَانُكَ عَنِ الْأَرْتَمِ صَدَقَةٌ وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ قَالَ ( (أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ أَكَانَ تَأْثَمُ) ) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ( (فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنی لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اس طرح وہ اجر میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی روزہ رکھتے ہو، نماز پڑھتے ہو اور حج کرتے ہو۔ میں نے کہا: جی وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری اندر بھی صدقہ کی صورتیں موجود ہیں، مثلا راستے سے ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے، راستے کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، زائد طاقت کے ساتھ کمزور کی مدد کر دینا صدقہ ہے، واضح الفاظ ادا نہ کر سکنے والے کی طرف سے وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے جماع کر لینے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی شہوت کو پورا کریں اوراس میں ہمارے لیے اجر بھی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتلا کہ اگر تو اس عضو خاص کو حرام کام پر لگا دے تو کیا تو گنہگار ہو گا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم شرّ سے بچ کر ثواب کی نیت کرتے ہو، اور کہ خیر والا کام کر کے ثواب کی نیت نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9324]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي: 6/ 82، وفي الشعب: 7619، وأخرجه بنحوه الترمذي: 1956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21690»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9325
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اصْبِرْ يَا أَبَا سَعِيدٍ فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ) )
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9325]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني أخرجه البيھقي في الشعب: 1473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11399»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اسْتَعِدَّ لِلْفَاقَۃِ۔)) تو پھر فقر و فاقہ کے لیے تیار ہوجائو۔ (مسند بزار: ۴/۲۲۹/۳۵۹۵، صحیحہ:۲۸۲۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اولین پیروکاروں میں غریب اور فقیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اہل کتاب کے مذہبی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ انبیا و رسل کی اطاعت کرنے والوں کا حال بھییہی تھا۔ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تلک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں کی اکثریت فقر و فاقہ اور غربت و افلاس میں مبتلا رہی۔
قارئین کرام! بلا شک و شبہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں نے اس نعمت کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہی دولت ان کے لیے اسلام سے غفلت برتنے کا سبب بن گئی اور ان کے مزاج تبدیل ہو گئے اور علم
شریعت سے جاہل ہونے کے باوجود اسلام کو اپنی مرضی اور سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے جن لوگوں نے جانوںکے نذرانے پیش کیے، طویل طویل سفر کیے، علم شریعت کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا، قرآن مجید کو سمجھنے، اسے یاد کرنے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کے لیے خوب تگ و دو کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کا عملی اور علمی دفاع کیا، چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کثیر تعداد کا تعلق غریبوں سے رہا ہے۔
اگر آج بھی جائزہ لیا جائے تو جو لوگ جہاد کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے، شرعی تعلیمات کی تبلیغ کرنے، قرآن مجید حفظ کرنے، مساجد کی صفائی کرنے اور ان میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور خلقِ خدا کی خدمت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کی اکثریتکا تعلق غربت سے ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ہم کسی مخصوص امیریا غریب فرد پر نہیں، بلکہ ماحول پر بحث کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں، جو سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9326
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ) ) وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ( (أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ) )
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، پس دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں عام لوگ مساکین تھے اور مرتبے والوں کو (جنت سے باہر) روک لیا گیا تھا، البتہ جہنمیوں کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ان کو جہنم میں لے جایا جائے، پھر میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں سے عام خواتین تھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9326]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5196، 6547، ومسلم: 2736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22125»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا اور اس میں فقراء کی اکثر تعداد دیکھی، پھر میں نے آگ میں اوپر سے دیکھا اور اس میں اکثر تعداد عورتوں کی دیکھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9327]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2737، وعلقه البخاري: 6449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2086»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں