🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فى خصال الإيمان وآياته
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی کر کے خوش ہوا اور برائی کر کے پریشان ہوا، وہ مومن ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 79، والحاكم: 1/ 13، والطبراني في الكبير، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19794»
وضاحت: فوائد: … بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق ہونا چاہیے کہ وہ نیکی کی وجہ سے ہونے والے سکون اور برائی کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کو محسوس کرے، یہی وہ مزاج ہے جو زیادہ نیکیوں کو سرانجام دینے اور برائیوں سے باز آ جانے پر آمادہ کرتا ہے۔
جب کوئی مسلمان نیکی کرتا ہے تو اسے نیکی پر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی ہے اور اسے مرنے کے بعد اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، لیکن ایسے انسان سے برائی سرزد ہوتی ہے تو وہ نادم و پشیمان ہو جاتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کیوں کی ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ گناہ نہ بخشا تو کیا بنے گا۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں یقینا ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو نماز یا تلاوت ِ قرآن جیسی عظیم عبادت کرنے کے بعد بے حس ہوتے ہیں یا وہ قبل از نماز اور بعد از نماز کی کیفیت میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے اور اسی طرح جو لوگ اپنی زندگیوں میں بعض برائیاں بار بار کرتے ہیں، لیکن ان کو کوئی ندامت نہیں ہوتی، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ لوگ جس ہستی کی نافرمانی کر رہے ہیں، اس کو سمجھ نہیں پا رہے۔ ایسے لوگ حقیقی معرفت ِ الٰہی سے محروم ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے نیکی والے امور کا علم حاصل کریں، پھر ان پر عمل پیرا ہو کر باطن میں خوشی اور مسرت محسوس کریں، اسی طرح قرآن و حدیث کی روشنی میں گناہوں کی فہرست تیار کی جائے، پھر ان سے اجتناب کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے، اگر بتقاضۂ بشریت کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو اس پر اسی انداز میں اظہارِ ندامت کیا جائے، جیسے دنیا کے خزانے چھن جانے پر افسوس کیا جاتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ کسی گناہ سے توبہ کرنے کا سب سے بڑا رکن ندامت اور اس کو ترک کرنا ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 79


Al-Fath al-Rabbani Hadith 94 in Urdu