الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى خير المجالس وشرها
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
حدیث نمبر: 9488
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجَنَازَةٍ فَعَادَ وَقَدْ تَخَلَّفَ حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ
۔ عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کا بتایا گیا، اس سے وہ لوٹے اور پھر مجلس سے اتنے پیچھے رہ گئے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ اس مجلس میں بیٹھ جائیں، لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک بہترین مجلس وہ ہوتی ہے، جو وسیع ہو۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور ایک وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9488]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ا بوداود: 4820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11154»
وضاحت: فوائد: … کشادہ مجلس میں جہاں بیٹھنے والے راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں، وہاں باہر سے آنے والے افراد کے لیے نہ کوئی دشواری ہوتی ہے اور نہ گفتگو متاثر ہوتی ہے۔ ایسی مجلس میں سامعین کو توجہ اور انہماک کے ساتھ بات سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس تنگ مجلس میںبیٹھنے والوں کو گھٹن اور تنگی محسوس ہوتی ہے، نیز آنے والے افراد زیادہ پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے گفتگو بھی متاثر ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح