🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب هلاك كل أمة لم تقم بهذا الواجب
اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9547
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9547]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25769»
وضاحت: فوائد: … اس دنیا میں خیر و بھلائی کو عام کرنے کے لیے اور شرو معصیت کو ختم کرنے کے لیے انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع کیا گیا، جو بالآخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ تو بند ہو گیا، لیکن انبیائے کرام کی ذمہ داری علمائے اسلام کو سونپ دی گئی، جبکہ اس دنیا میں سعادت مند وہی ہیں، جن کو امورِ خیر کو عام کرنے اور شرّ کا وجود ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9547 in Urdu