🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء فى الترهيب من التفاخر بالآباء فى نسب وغير ذلك
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9729
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9729]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2682، وابن حبان: 5775، والطبراني في الكبير: 11862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2739»
وضاحت: فوائد: … اپنی قوم، نسل اور آباء و اجداد کی بنا پر ناز کرنا، فخر کرنا، فوقیت جتانا، نفیس و فائق سمجھنا، برتری ثابت کرنا اور ذریعۂ امتیاز و اعزاز سمجھنا، اسلام میں اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر نسب کو آگے بڑھایا جائے تو تمام قومیں، قبیلے اور خاندان آدم علیہ السلام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، تعارف کے لیے نسل کا نام لیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں کو اپنی برادریوں سے اچھے مزاج ملتے ہیں، ان کی وجہ سے عزت و حمیت والی اور با مقصد زندگی نصیب ہوتی ہے، ایسے مزاج پر پابند رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرنا چاہیے، اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بعض قبائل اور اشخاص کی تعریف کی ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9729 in Urdu