🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفَاخُرِ بِالْآبَاءِ فِي نَّسْبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9739
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا بَخِيلًا جَبَانًا
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو، بدکلام، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9739]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في الشعب: 6677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17446»
وضاحت: فوائد: … ابن جریر کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلنَّاسُ لِآدَمَ وَحَوَّائَ، کَطَفِّ الصَّاعِ لَمْ یَمْلَؤُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْأَلُکُمْ عَنْ اَحْسَابِکُمْ، وَلَا عَنْ اَنْسَابِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔)) … آدم علیہ السلام اور حوا رحمتہ اللہ علیہ سے تمام لوگ پیدا ہوئے۔ لوگ اس صاع کی طرح ہیں، جس کو بھرا نہیں گیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے حسب و نسب کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہو گا، جو سب سے زیادہ متقی ہو گا۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی، بدکلامی، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9739 in Urdu