الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب حجة من قال: تغتسل المستحاضة لكل صلاة إن قدرت أو تجمع بين الصلاتين بغسل
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
حدیث نمبر: 975
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ سَلَمَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: سُهَيْلَةَ) بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحِ بِغُسْلٍ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وھذا اسناد اختلف فيه علي عبد الرحمن بن القاسم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25391»
الحكم على الحديث: حديث ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 975 in Urdu