🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِنْ قَدَرَتْ أَوْ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِغُسْلٍ
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ سَلَمَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: سُهَيْلَةَ) بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحِ بِغُسْلٍ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وھذا اسناد اختلف فيه علي عبد الرحمن بن القاسم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25391»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: بدون رقم في النص المقدم»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں