🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء فى الترهيب من الظلم والباطل والاعانة عليهما
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9766
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو اس طرح برانگیختہ کیا کہ انھوں محرمات کو حلال سمجھ لیا، خون بہائے اور قطع رحمی کی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9766]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن حبان: 5177، والحاكم: 1/ 12، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9565»
وضاحت: فوائد: … دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔
کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔
مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ہر انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9766 in Urdu