الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْحِرْصِ
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
حدیث نمبر: 9803
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكْعُ بْنُ لُكَعٍ وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَتَيْنِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2051، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24051»
وضاحت: فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔
دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا
مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا
مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9803 in Urdu