الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْحِرْصِ
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
حدیث نمبر: 9800
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} [الأنعام: 44]
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیں کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9800]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17444»
وضاحت: فوائد: … ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قابل قدر نعمتیں اس کے لیے وبال کے اسباب پیدا کر دیں۔ صرف مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ اعمالِ صالحہ سے اس چیزکا اندازہ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 9801
عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ قَالُوا الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الصُّعْلُوكُ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9801]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي حصبة او ابن حصبة، أخرجه البيھقي في الشعب: 3341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23503»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ابي حصبة او ابن حصبة
حدیث نمبر: 9802
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ
۔ سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9802]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة، أخرجه الطبراني في الكبير: 3229، 3230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24078»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ جوں جوں مال بڑھتا ہے، آدمی توں توں خیر سے دور ہوتا رہتا ہے، اکثریت کا حال یہی ہے، الا ما شاء اللہ۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة
حدیث نمبر: 9803
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكْعُ بْنُ لُكَعٍ وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَتَيْنِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9803]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2051، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24051»
وضاحت: فوائد: … لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔
دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا
مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا
مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9804
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ أَيْ رَبِّ عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَالَ فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيُقَالُ يَا مُوسَى هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ فَقَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ كَأَنْ لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ کافر ہے، لیکن تو دنیا میں اس کو وسعت عطا کر رہا ہے، اتنے میں جہنم سے ایک دروازہ کھولا گیا اور کہا گیا: اے موسی! یہ ٹھکانہ ہے، جو میں نے اس کے لیے تیارکر رکھا ہے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم! جب سے تو نے اس بندے کو پیدا کیا، اگر اس وقت سے قیامت کے دن تک ساری دنیا اس بندے کو مل جائے اور پھر اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو گویا کہ اس بندے نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9804]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11789»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
حدیث نمبر: 9805
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ فَقَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مالدار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ بالآخر ہم ڈر گئے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ چیز تو واجب ہو چکی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کیا، جبکہ ایسا کرنے والے کم ہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9805]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه مختصرا: 4129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11511»
وضاحت: فوائد: … مال داروں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کثیر مقدار میں صدقہ کریں، اس ضمن میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سوانح عمری لائق مطالعہ ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9806
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُكَثِّرِينَ هُمُ الْأَرْذَلُونَ (وَفِي لَفْظٍ هُمُ الْأَقَلُّونَ) إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَقِيلَ مَا هُمْ) قَالَ كَامِلٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے سب سے زیادہ ذلیل ہوں گے (یا ایک روایت کے مطابق) کم عمل والے ہوں گے، مگر وہ جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کرتا ہے۔ کسی نے کہا: وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کامل راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا کہ وہ مال دائیں طرف، بائیں طرف اور اپنے سامنے ڈالتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9806]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8306»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9807
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ وَمَا أَخْشَى الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 2/534، وابن حبان: 3222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8060»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ فقر کی مضرّت، غِنٰی کی مضرّ ت سے کم ہے، کیونکہ فقر کی تکلیف کا تعلق دنیا سے ہے اور غِنٰی اکثر و بیشتر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَلَّا ٓ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی} … ہر گز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی وہ ہوگیا ہے۔ (سورۂ علق: ۶، ۷)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 9808
عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا قَالَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9808]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 5200، وابن حبان: 710، وابن ابي شيبة: 13/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4048»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ کوئی مسلمان مال و دولت کی کثرت کی خاطر اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ امورِ دین سے ہی غافل ہو جائے، جیسا کہ اکثر مال داروں کو دیکھا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث کے آخر میں یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انھوں نے خود تو دو جائدادیں بنا لی ہیں، ایک مدینہ میں ہے اور ایک براذان ہے۔
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9809
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ فَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ وَكَانَ جَالِسًا عِنْدَهُ نَعَمْ حَدَّثَنِي أَخْرَمُ الطَّائِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكَيْفَ بِأَهْلِ بَرَاذَانَ وَأَهْلٍ بِالْمَدِينَةِ وَأَهْلٍ بِكَذَا قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِأَبِي التَّيَّاحِ مَا التَّبَقُّرُ قَالَ الْكَثْرَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: کثرت۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9809]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث له اسنادان، وكلاھما ضعيف، علتھما الاضطراب والجھالة، أخرجه الطيالسي: 380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4181»
الحكم على الحديث: ھذا الحديث له اسنادان