🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما جاء فى الترهيب من مواقع الشبه ومواطن الريبة
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9854
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوْ قَالَ شَيْئًا
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3281، ومسلم: 2175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27400»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں بہت بڑا سبق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی ذات کے بارے میں سوئے ظن کرنے سے محفوظ رکھا ہے، یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے ساتھ شفقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مصلحتوں اور ان کے قلوب و جوارح کی سلامتی کا لحاظ رکھا ہے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزرنے والے یہ دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا بات کر دیں اور پھر ہلاکت ان کا مقدر بن جائے۔
اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔
ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3281


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9854 in Urdu