الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء فى الترهيب من مواقع الشبه ومواطن الريبة
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9853
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9853]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12620»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے اندر خون کے چلنے کے مقامات میں گردش کر سکتا ہے، یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بہت تیزی سے انسان کو وسوسہ میں ڈالنے میںکامیاب ہو جاتا ہے، بہرحال شیطان انسان کے اندر گھس کر اس کووسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12620
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9853 in Urdu