الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ كَثْرَةِ الْكَلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الصَّمَتِ
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
حدیث نمبر: 9859
عَنْ أَبِي الصَّبْحَاءِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ أَعْضَاءَهُ تُكَفِّرُ اللِّسَانَ تَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّكَ إِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9859]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11930»
وضاحت: فوائد: … جہاں زبان کا درست استعمال باعث ِ نجات ہے، وہاںاس کی ذرا سی بے اعتدالی کی سزا پورے جسم کو بھگتنا پڑتی ہے، گوشت کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا باعث ِ سعادت بھی اور باعث ِ شقاوت بھی،یہ باعث ِ عزت بھی ہے اور باعث ِ ذلت بھی۔ زبان بعضوںکو معاشرے کا معزز ترین افراد بنا دیتی ہے اور بعضوں کو ذلیل ترین۔ لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی کا مصداقِ اول زبان ہے۔
قارئین کرام! جسم کے تمام اعضاء پر نظر دوڑائیں، ہر عضو کوئی برا یا اچھا اقدام کرنے سے پہلے منصوبہ بناتا ہے، مثلا نماز ادا کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، تیمار داری کرنا۔ لیکنیہ زبان ہے جو کروٹ بدلتے بدلتے کئی نیکیوںیا کئی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلا اچانک اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تحمیدات وغیرہ کہنا شروع کر دے یا جاتے جاتے
کسی کو گالی دے دے، برا بھلا کہہ دیے، کلمۂ کفر بول دیے، فحش مذاق کر دے، چغلی و غیبت کر دے، جھوٹ بول دیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سچ فرمایا نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ زبان بڑی تیز طرار ہے اور ہر عضو کو اس کی پھرتی کا شکوہ ہے۔
قارئین کرام! جسم کے تمام اعضاء پر نظر دوڑائیں، ہر عضو کوئی برا یا اچھا اقدام کرنے سے پہلے منصوبہ بناتا ہے، مثلا نماز ادا کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، تیمار داری کرنا۔ لیکنیہ زبان ہے جو کروٹ بدلتے بدلتے کئی نیکیوںیا کئی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلا اچانک اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تحمیدات وغیرہ کہنا شروع کر دے یا جاتے جاتے
کسی کو گالی دے دے، برا بھلا کہہ دیے، کلمۂ کفر بول دیے، فحش مذاق کر دے، چغلی و غیبت کر دے، جھوٹ بول دیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سچ فرمایا نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ زبان بڑی تیز طرار ہے اور ہر عضو کو اس کی پھرتی کا شکوہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9859 in Urdu