🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى الترهيب من كثرة الكلام وما جاء فى الصمت
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9858
عَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا مَا هُمَا ثُمَّ قَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُهُ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ فَقَالَ اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9858]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه تميم بن يزيد، وھو مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23453»
وضاحت: فوائد: … زبان نہ صرف انسان کے احترام و اکرام اور ذلالت و رسوائی کا معیار قرار پا چکی ہے، بلکہ اخروی کامیابی و کامرانی اور ناکامی ونامرادی کا دارو مدار بھی اسی پر ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں زبان کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر حفاظت ِ زبان کا اہتمام نہ کیا گیا تو یہ سارے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو جنت میں داخل کرنے کی بجائے آتش ِ دوزخ کا ایندھن بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نجات کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصولِ نجات کے لیے ان تین امور کا ذکر کیا: ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) (ترمذی) … اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تم کو اپنے اندر سموئے رکھے اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔
معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9858 in Urdu