🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى الترهيب من كثرة الكلام وما جاء فى الصمت
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9864
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ فَقُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ أَوْ قَالَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9864]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابن ماجه: 3973، والترمذي: 2616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22366»
وضاحت: فوائد: … حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، مختلف احکام ومسائل کا بیان ہے، جن کا نتیجہ زبان کی حفاظت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ زبان ایک ایسی چیز ہے کہ اگرآ دمی اس کو احتیاط سے استعمال نہ کرے تو یہ آدمی کو جہنم میںلے جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی اکثر عورتیں جہنم میں صر ف اسی زبان کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے جائیں گی، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے کہ جو آدمی دوچیزوں (یعنی ایک زبان اور دوسری شرم گاہ)کی ضمانت دے دے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9864 in Urdu