الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالتَّعْلِيطِ فِي ذَلِكَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9904
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ مَا لِي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ عَنْهُ كَلِمَةً ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث بیان کرتے نہیں سنتا، جیسا کہ ابن مسعود اور فلاں فلاں لوگ بیان کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: خبردار! میں اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوا، اصل بات یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایکیہ حدیث سنی تھی: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1413»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 107
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9904 in Urdu