الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالتَّعْلِيطِ فِي ذَلِكَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9899
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَهُوَ فِي النَّارِ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، پس وہ آگ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9899]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 259، ومتن الحديث متواتر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 326»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنا عام جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شریعت سے متعلقہ کلام وحی ہوتا ہے، جو دراصل اللہ تعالیٰ کی منشا ہوتی ہے، کیونکہ شریعت سازی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لیکن جب جھوٹی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کی جائے گی تو یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے کے مترادف جرم ہو گی اور اس سے شریعت سازی لازم آئے گی، جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بہرحال نبی کریم پر جھوٹ بولنے سے کئی مفاسد لازم آتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9900
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ( (مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) ) وَقَالَ حُسَيْنٌ أَوْعَى صَحَابَتِهِ عَنْهُ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ کی احادیث بیان کرنے سے روکنے والی چیزیہ نہیں ہے کہ میں احادیث کو بہت زیادہ یاد رکھنے والے صحابہ میں سے نہیں ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہ فرمائی ہو تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9900]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 259، ومتن الحديث متواتر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 469»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9901
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا گھر جہنم میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9901]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 507»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 507
حدیث نمبر: 9902
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجِ النَّارَ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ بولا کرو، پس بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9902]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 630»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:106
حدیث نمبر: 9903
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَكْذَبُ الْكَاذِبَيْنِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیالیہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9903]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 903»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 903
حدیث نمبر: 9904
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ مَا لِي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ عَنْهُ كَلِمَةً ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث بیان کرتے نہیں سنتا، جیسا کہ ابن مسعود اور فلاں فلاں لوگ بیان کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: خبردار! میں اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوا، اصل بات یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایکیہ حدیث سنی تھی: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1413»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 107
حدیث نمبر: 9905
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر بنایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9905]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6309»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 9906
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر وہ بات کہی، جو میں نے نہ فرمائی ہو، وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9906]
تخریج الحدیث: «حديث متواتر، وھذا اسناد حسن، أخرجه ابن ماجه: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10520»
الحكم على الحديث:
حديث متواتر
حدیث نمبر: 9907
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9907]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح متواتر، أخرجه ابويعلي: 2909، والدارمي: 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14006»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح متواتر
حدیث نمبر: 9908
عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَةَ قَالَ الْمُخْتَارُ هَذَا رَجُلٌ كَذَّابٌ وَلَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ) )
۔ سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ مختار جھوٹا آدمی ہے اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9908]
تخریج الحدیث: «متن ھذا الحديث متواتر، واسناده ضعيف لجھالة مسلم مولي خالد، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 760، وابويعلي: 6868، والحاكم: 3/ 280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22868»
الحكم على الحديث:
متن ھذا الحديث متواتر