الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشَّعْرِ لِمَصْلَحَةِ شَرْعِيَّةٍ
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 9947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ وَمَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا وَتَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبدالرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: في حديثه مناكير، أخرجه ابوداود: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7081»
وضاحت: فوائد: … تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9947 in Urdu