الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى وجوب التيمم على النفساء والحائض والجنب إذا فقد الماء وإن مكثوا أشهرا
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
حدیث نمبر: 995
عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ: تَدَارَى عَمَّارٌ (بْنُ يَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي التَّيَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمْ أَصَلِّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ: ( (إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ) )
ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ناجية العنزي لم يسمع من عمار۔ أخرجه النسائي: 1/166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18505»
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 995 in Urdu