الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
حدیث نمبر: 9981
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ) )
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9981]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2408، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18328»
وضاحت: فوائد: … قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2408
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9981 in Urdu