سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
147. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِيلَاءِ
باب: ایلاء (بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا) کے بارے میں وارد احادیث
ترقیم دار السلفیہ: 1874 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3051
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الأَسَدِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَ أَخِيهِ، فَقَالَ: هِيَ طَالِقٌ إِنْ قَرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ:" إِنَّمَا أَرَدْتَ لَكَ وَلابْنِ أَخِيكَ فَلا إِيلاءَ عَلَيْكَ، إِنَّمَا الإِيلاءُ مَا كَانَ فِي الْغَضَبِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: بھائی کی بیوی سے نکاح کیا جبکہ وہ اس کے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی ایلاء نہیں، ایلاء تو صرف غضب کے وقت ہوتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: «حسنٌ لذاته، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1874، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15339، 15340، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11632، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18947، 18948»
وضاحت: وضاحت: أبو عطية الأسدي کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں ملتی، اس لیے یہ اثر مرسل تابعی ہے، البتہ مرسل اثرِ صحابی فقہی استدلال میں معتبر ہوتا ہے، خاص طور پر جب مضمون میں نکارت یا شذوذ نہ ہو، اور تائید دیگر مصادر سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی:
اصل نیت کا اعتبار کیا:
اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی:
اصل نیت کا اعتبار کیا:
اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
الحكم على الحديث:
حسنٌ لذاته
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3051 in Urdu