سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
162. بَابُ الْمَرْأَةِ تَلِدُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
ترقیم دار السلفیہ: 2075 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3252
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ قَائِدِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُثْمَانُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَدْنُونِي مِنْهُ فَأَدْنَوْهُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا تُخَاصِمَكَ بِكِتَابِ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ سورة البقرة آية 233، وَيَقُولُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا سورة الأحقاف آية 15، فَرَدَّهَا عُثْمَانُ وَخَلَّى سَبِيلَهَا" .
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس چھ ماہ میں بچہ جنے والی عورت کو لایا گیا، انہوں نے رجم کا حکم دیا، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے اسے بچا لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2075، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15650، 17060، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13447»
فائدہ: تحکیم و فقہی نکات:
حمل کی کم از کم مدت = 6 ماہ ← قرآن کی دو آیات سے مستنبط
حدود میں شک ہو تو حد ساقط ہوتی ہے
→ قاعدہ: الحدود تدرأ بالشبهات
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے قاضی کا فیصلہ معطل کروایا — اعلیٰ درجہ کی فقہی بصیرت
? سابقہ اثر 2074 کی تائید:
یہ روایت سابقہ اثر (2074) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استدلال کی نظیر بن کر آتی ہے
→ دونوں نے ایک ہی فقہی قاعدہ بیان کیا
→ دونوں نے حد کو روکا
→ دونوں نے حمل کی کم مدت 6 ماہ قرار دی
→ دونوں واقعات میں خلیفۂ وقت کا رجوع ہوا
✅ نتیجہ:
یہ اثر حسن/قابلِ قبول سند کے ساتھ ہے، اور اپنے مضمون میں صحیح اور اصولی ہے۔
اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فقہی اجتہاد اور قرآن فہمی نمایاں ہے،
اور خلیفہ وقت کا رجوع کرنا انصاف اور تقویٰ کی علامت ہے۔
فائدہ: تحکیم و فقہی نکات:
حمل کی کم از کم مدت = 6 ماہ ← قرآن کی دو آیات سے مستنبط
حدود میں شک ہو تو حد ساقط ہوتی ہے
→ قاعدہ: الحدود تدرأ بالشبهات
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے قاضی کا فیصلہ معطل کروایا — اعلیٰ درجہ کی فقہی بصیرت
? سابقہ اثر 2074 کی تائید:
یہ روایت سابقہ اثر (2074) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استدلال کی نظیر بن کر آتی ہے
→ دونوں نے ایک ہی فقہی قاعدہ بیان کیا
→ دونوں نے حد کو روکا
→ دونوں نے حمل کی کم مدت 6 ماہ قرار دی
→ دونوں واقعات میں خلیفۂ وقت کا رجوع ہوا
✅ نتیجہ:
یہ اثر حسن/قابلِ قبول سند کے ساتھ ہے، اور اپنے مضمون میں صحیح اور اصولی ہے۔
اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فقہی اجتہاد اور قرآن فہمی نمایاں ہے،
اور خلیفہ وقت کا رجوع کرنا انصاف اور تقویٰ کی علامت ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3252 in Urdu