🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

162. بَابُ الْمَرْأَةِ تَلِدُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2074 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3251
نا نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ امْرَأَةً وَلَدَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَأُتِيَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَمَّ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ:" لَيْسَ ذَاكَ لَكَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا سورة الأحقاف آية 15، فَقَدْ يَكُونُ فِي الْبَطْنِ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَالرَّضَاعُ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ شَهْرًا، فَذَلِكَ تَمَامُ مَا قَالَ اللَّهُ: ثَلاثُونَ شَهْرًا"، فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُ .
ایک عورت نے چھ ماہ میں بچہ جنا، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آیت سے استدلال کر کے اسے بچا لیا کہ حمل اور دودھ پلانے کا مجموعہ تیس مہینے ہوتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2746، 2747، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2063، 2064، 2073، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15471، 15472، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12521، 12522، 12523، 12524، 12525، 12536، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4726، 4727، 4728»
وضاحت:سنداً مرسل (یعنی ضعیف) ہے، لیکن متن مشہور، معتبر، اور قابلِ قبول ہے۔ وانظر 2075

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2075 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3252
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ قَائِدِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُثْمَانُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَدْنُونِي مِنْهُ فَأَدْنَوْهُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا تُخَاصِمَكَ بِكِتَابِ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ سورة البقرة آية 233، وَيَقُولُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا سورة الأحقاف آية 15، فَرَدَّهَا عُثْمَانُ وَخَلَّى سَبِيلَهَا" .
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس چھ ماہ میں بچہ جنے والی عورت کو لایا گیا، انہوں نے رجم کا حکم دیا، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے اسے بچا لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2075، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15650، 17060، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13447»
فائدہ: تحکیم و فقہی نکات:
حمل کی کم از کم مدت = 6 ماہ ← قرآن کی دو آیات سے مستنبط
حدود میں شک ہو تو حد ساقط ہوتی ہے
→ قاعدہ: الحدود تدرأ بالشبهات
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے قاضی کا فیصلہ معطل کروایا — اعلیٰ درجہ کی فقہی بصیرت
? سابقہ اثر 2074 کی تائید:
یہ روایت سابقہ اثر (2074) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استدلال کی نظیر بن کر آتی ہے
→ دونوں نے ایک ہی فقہی قاعدہ بیان کیا
→ دونوں نے حد کو روکا
→ دونوں نے حمل کی کم مدت 6 ماہ قرار دی
→ دونوں واقعات میں خلیفۂ وقت کا رجوع ہوا
✅ نتیجہ:
یہ اثر حسن/قابلِ قبول سند کے ساتھ ہے، اور اپنے مضمون میں صحیح اور اصولی ہے۔
اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فقہی اجتہاد اور قرآن فہمی نمایاں ہے،
اور خلیفہ وقت کا رجوع کرنا انصاف اور تقویٰ کی علامت ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2076 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3253
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: نا أَشْيَاخُنَا أَنَّ رَجُلا خَرَجَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَغَابَ عَنِ امْرَأَتِهِ سَنَتَيْنِ، فَجَاءَ وَهِيَ حُبْلَى فَرَفَعَهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ:" إِنْ يَكُ عَلَيْهَا سَبِيلٌ، فَلا سَبِيلَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا"، فَحَبَسَهَا عُمَرُ حَتَّى وَلَدَتْ فَوَضَعَتْ غُلامًا لَهُ ثِنْيَتَانِ، فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ قَالَ: ابْنِي ابْنِي، فَبَلَغَ عُمَرَ، فَقَالَ:" عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ تَلِدَ مِثْلَ مُعَاذٍ، لَوْلا مُعَاذٌ هَلَكَ عُمَرُ" .
ایک مرد دو سال غائب رہا، جب واپس آیا تو اس کی بیوی حاملہ تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کا حکم دیا، مگر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دلیل دی کہ حمل والی پر حد نہیں لگ سکتی، اور بچہ پیدا ہونے پر وہ باپ نے اپنا بچہ مان لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2076، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15657، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3876، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13454، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29408» قال ابن حجر: رجاله ثقات، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 148)

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2077 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3254
نا نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ فِي الْحَمْلِ عَلَى سَنَتَيْنِ، وَلا قَدْرِ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ هَذَا الْمِغْزَلِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عورت کا حمل دو سال سے زیادہ نہیں ہو سکتا، جتنا ایک تکلے کے سائے کا حرکت کرنا ہو اتنا بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2077، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15651، 15652، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3874، 3875»
قال ابن الملقن: جميلة بنت سعد مجهولة لا يدرى من هي، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 225)
وضاحت: وضاحت: اثر سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اور محتوی اعتبار سے معروف اور مؤید بالاجماع ہے

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2078 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3255
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِمَجْنُونَةٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتْبَعُهَا الصِّبْيَانُ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةٌ فَجَرَتْ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمَا أَنْتُمْ، لا تَعْجَلُوا، فَأَتَى عُمَرَ، فَقَالَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ " الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَالْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرُؤَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يُدْرِكَ" فَقَالَ عُمَرُ: كَذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ: فَرُدَّهَا، وَخَلِّ سَبِيلَهَا.
ایک دیوانی عورت فاحشہ ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجم کا حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پاگل پر حد نہیں ہے۔ لہٰذا اسے چھوڑ دیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے:
«لا جَرمَ بلا عقل» ‏‏‏‏— جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2079 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3256
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ أَرْبَعَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ، وَعَنِ الْكَبِيرِ الَّذِي لا يَعْقِلُ" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: چار پر قلم نہیں: سونے والے، نابالغ بچے، دیوانے اور بوڑھے جو عقل کھو بیٹھے ہوں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث: « «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2080 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3257
نا هُشَيْمٌ ، أنا الْعَوَّامُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ مُصَابَةٍ قَدْ فَجَرَتْ، فَهَمَّ أَنْ يَضْرِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ" ، فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو دیوانی تھی اور اس سے بدکاری ہو گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کر کے اسے حد سے بچا لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے:
«لا جَرمَ بلا عقل» ‏‏‏‏— جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2081 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3258
نا هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، بِنَحْوِ ذَلِكَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: «إسناده صحیح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: انظر حدیث ثابق، یہ اثر حسن الاسناد ہے، اور حدیث 2080 کا مؤید و مختصر شاہد ہے
اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے رفعِ قلم والا اصول دوبارہ ذکر کیا گیا ہے
جو شریعت کے اصولِ عدل و رحمت کا مستقل قاعدہ ہے

الحكم على الحديث: إسناده صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2082 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3259
نا هُشَيْمٌ ، أنا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ ، بِنَحْوِ ذَلِكَ.
سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت اگرچہ مرسل ہے، مگر:
متعدد صحابہ سے اس مضمون کا آنا (عمر، علی، ابن عباس، عائشہ وغیرہم)
مرفوع حدیث کی موجودگی (مثلاً: صحیح ابو داود، نسائی، احمد میں "رُفِعَ القلم..." مرفوعاً موجود ہے)
اور فقہاء و اصولیین کا اس قاعدے کو اجماعی اصول کے طور پر تسلیم کرنا
→ ان سب عوامل کی وجہ سے یہ اثر بھی قابلِ قبول، مؤید، اور فقہی استدلال کے لیے قوی ہے۔

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2083 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3260
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، فَقَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَقَرَّتْ أَوْ شَهِدَتْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيّ : " سَلْهَا مَا زِنَاهَا فَلَعَلَّ لَهَا عُذْرًا؟" فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي خَرَجْتُ فِي إِبِلِ أَهْلِي، وَلَنَا خَلِيطٌ، فَخَرَجَ فِي إِبِلِهِ فَحَمَلْتُ مَعِي مَاءً، وَلَمْ يَكُنْ فِي إِبِلِي لَبَنٌ، وَحَمَلَ خَلِيطِي مَاءً، وَمَعَهُ فِي إِبِلِهِ لَبَنٌ، فَنَفِدَ مَائِي فَاسْتَسْقَيْتُهُ، فَأَبَى أَنْ يَسْقِيَنِي حَتَّى أُمْكِنَهُ مِنْ نَفْسِي، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا كَادَتْ نَفْسِي تَخْرُجُ أَمْكَنْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، أَرَى لَهَا عُذْرًا فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ سورة البقرة آية 173"، فَخَلَّى سَبِيلَهَا .
ایک عورت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس زنا کا اقرار کرنے آئی، آپ نے اسے کئی بار لوٹایا، جب اس نے چار بار گواہی دی تو رجم کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے وجہ معلوم کرو شاید کوئی عذر ہو۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر گناہ پر آمادہ ہوئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر، اس کا عذر موجود ہے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: «إسنادہ حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2083، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17147»
وضاحت: وضاحت:
✅ 1. حدود کے نفاذ میں تحقیقِ سبب واجب ہے
→ جب عورت نے اقرار کیا، تو بظاہر حد واجب ہو گئی
→ لیکن علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت نے ظاہر کیا کہ اقرار کے پیچھے اضطرار تھا

✅ 2. قرآن سے استدلال: اضطرار کے وقت حرام بھی جائز ہو سکتا ہے
«فمن اضطر...» کی آیت صرف کھانے پینے پر محدود نہیں،
→ بلکہ عمومی طور پر جان بچانے والے افعال پر بھی دلالت کرتی ہے

✅ 3. شریعت میں انصاف، فہم، نیت اور حالات کو اہمیت حاصل ہے
ظاہری اقرار کافی نہیں، معنوی حالات و اسباب کی تحقیق ضروری ہے

حدود شک سے ساقط ہوتی ہیں، اور اضطرار سببِ رخصت ہے

✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی اصول، قرآنی استدلال اور عدالتی بصیرت کا بلند ترین نمونہ ہے
اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں:
فقہی قاعدہ: فقہی قاعدہ | وضاحت، الحدود تدرأ بالشبهات | شک یا مجبوری ہو تو حد ساقط، الضرورة تبيح المحظورات | جان بچانے کے لیے ممنوع افعال کی اجازت ہو سکتی ہے، الاعتراف لا يكفي إذا قام عذر قهري | اقرار کے باوجود اگر مجبوری ہو تو حد نہیں

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں