الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
174. باب جامع الطلاق
طلاق کے جامع مسائل
ترقیم دار السلفیہ: 2149 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3326
نا نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلا كَانَتْ عِنْدَهُ يَتِيمَةٌ وَكَانَتْ تَحْضُرُ طَعَامَهُ، فَخَافَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَيْهَا، فَغَابَ الرَّجُلُ غَيْبَةً فَاسْتَعَانَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الْجَارِيَةِ نِسْوَةً فَاضْطَبَنَّهَا لَهَا فَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَهَا قَالَ: وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَفْتَقِدُ الْجَارِيَةَ عِنْدَ مَائِدَتِهِ وَطَعَامِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ: مَا حَالُ فُلانَةَ لا تَحْضُرُ طَعَامِي؟ قَالَتْ: دَعْ عَنْكَ فُلانَةَ، قَالَ: مَا شَأْنُهَا؟ قَالَتْ: إِنَّهَا فَجَرَتْ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ فَجَعَلَتْ تَبْكِي، قَالَ: فَأَخْبِرِينِي، فَأَخْبَرَتْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةِ الرَّجُلِ وَإِلَى النِّسْوَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَهُ لَمْ يَلْبَثْنَ أَنِ اعْتَرَفْنَ بِمَا صَنَعْنَ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اقْضِ فِيهَا يَا حَسَنُ! فَقَالَ:" الْحَدُّ عَلَى مَنْ قَذَفَهَا، وَالْعُقْرُ عَلَيْهَا وَعَلَى الْمُمْسِكَاتِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ:" لَوْ كُلِّفَتْ إِبِلٌ طَحِينًا لَطَحَنَتْ، وَمَا يَطْحَنُ يَوْمَئِذٍ بَعِيرٌ" .
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا کہ اس کی بیوی نے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ عورتوں کو ملا کر اس کی عزت خراب کی، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”قذف کرنے والے پر حد اور عورتوں پر دیت ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2149، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17758»
وضاحت: وضاحت: اگرچہ اثر میں جس شخص کا واقعہ ذکر ہوا وہ نامعلوم ہے، مگر: یہ شخص راوی نہیں بلکہ قصے کا کردار ہے شریعت میں صحابی یا تابعی کے اجتہاد و فیصلہ کی نقل میں ایسے اشخاص کا مجہول ہونا ضرر نہیں دیتا۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن