علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
243. باب المرأة تجير على القوم
باب: عورت کا کسی قوم کو پناہ دینا (یعنی امان دینا) جائز ہے، اس بارے میں بیان۔
ترقیم دار السلفیہ: 2611 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3788
نا نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ ، إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَيَجُوزُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”بیشک عورت اگر مسلمانوں کو امان دے تو اس کی امان جائز ہوتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1168، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4329، 5071، 5450، 6931، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8630، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2692، 2764، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2611، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8630، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2692، 2764، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2611، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34073، 34074»
وضاحت: الأعمش کی "عن" والی روایت اگر کسی اور صحیح سند یا شواہد سے تقویت پا جائے تو مقبول ہو جاتی ہے۔ یہاں مضمون یعنی عورت کی امان کی قبولیت ➔ صحیح بخاری (حدیث: 3170) میں بھی ثابت ہے: «أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ رَجُلًا» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی امان کو معتبر قرار دیا تھا۔ ➔ اس لیے متن صحیح ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3788 in Urdu