سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
124. قوله تعالى: {ولا تحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون * فرحين بما آتاهم الله من فضله ويستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم ألا خوف عليهم ولا هم يحزنون}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 539 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 539
نَا نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ , قَالَ: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ سورة آل عمران آية 169، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ اطِّلاعَةً، فَقَالَ لَهُمْ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، قَالُوا: يَا رَبَّنَا، مَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ فِي أَيِّهَا شِئْنَا؟ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ اطِّلاعَةً، فَقَالَ لَهُمْ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، قَالُوا: يَا رَبَّنَا، وَمَاذَا نَسْأَلُكَ، وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ فِي أَيِّهَا شِئْنَا؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا إِلا أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لا يَسْأَلُونَ إِلا هَذَا تُرِكُوا" .
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اللہ عزوجل کے قول ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ کے بارے میں کیا بیان ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں سوال کیا تھا، اور کہا: ان کی ارواح سبز پرندوں کی طرح ہیں جو جنت میں جہاں چاہیں، چلتی پھرتی ہیں، پھر وہ عرش کے قریب لٹکی ہوئی قندیلوں میں پناہ لیتی ہیں۔ اسی حالت میں، جب ان کے رب عزوجل نے ان پر نظر ڈالی، تو فرمایا: ”جو چاہو، مجھ سے سوال کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اے ہمارے رب! ہم تجھ سے کیا مانگیں، جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہیں، گھوم رہے ہیں؟“ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ کچھ نہ مانگیں گے تو انہوں نے کہا: ”ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری ارواح کو دنیا میں ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دے، تاکہ ہم تیری راہ میں دوبارہ شہید ہو جائیں۔“ جب اللہ نے دیکھا کہ وہ سوائے اس کے کچھ نہیں مانگیں گے، تو وہ انہیں واپس چھوڑ دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1887، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2540، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3011، 3011 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2454، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2801، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 539، 2559، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4031، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 19731»
قال ابن عبدالبر: حسن، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (8 / 357)
قال ابن عبدالبر: حسن، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (8 / 357)
الحكم على الحديث: سنده صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه مسلم في "صحيحه" كما سيأتي.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي |