سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
228. الْآيَةُ (98) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 898 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 898
نَا نَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، قَالَ: نَا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ الْمَدِينِيِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ:" دَعَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: اكْتُبْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى فُلانٍ حَبْرِ تَيْمَاءَ، سَلامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ، فَقُلْتُ: تَبْدَؤُهُ فَتَقُولُ: سَلامٌ عَلَيْكَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، اكْتُبْ سَلامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَحَدِّثْنِي عَنْ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ سورة الأنعام آية 98 , وَعَنْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ سورة آل عمران آية 133 , قَالَ: فَذَهَبْتُ بِالْكِتَابِ إِلَى الْيَهُودِيِّ , فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِكِتَابِ خَلِيلِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَذَهَبَ بِي إِلَى بَيْتِهِ، فَفَتَحَ أَسْفَارًا لَهُ كَثِيرَةً، فَجَعَلَ يَطْرَحُ تِلْكَ الأَسْفَارِ لا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ , قَالَ: هَذِهِ أَسْفَارٌ كَتَبَتْهَا الْيَهُودُ حَتَّى أَخْرَجَ سِفْرَ مُوسَى، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: الْمُسْتَوْدَعُ: الصُّلْبُ، وَالْمُسْتَقَرُّ: الرَّحِمُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: وَنُقِرُّ فِي الأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ سورة الحج آية 5، وَلَكُمْ فِي الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ سورة البقرة آية 36 , قَالَ: هُوَ مُسْتَقَرُّهُ فِي الأَرْضِ , وَمُسْتَقَرُّهُ فِي الرَّحِمِ، وَمُسْتَقَرُّهُ تَحْتَ الأَرْضِ حَتَّى يَصِيرَ إِلَى الْجَنَّةِ أَوْ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ نَظَرَ، فَقَالَ: وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ سورة آل عمران آية 133 , قَالَ: سَبْعُ سَمَوَاتٍ، وَسَبْعُ أَرَضِينَ يُلَفَّقْنَ كَمَا تُلَفَّقُ الثِّيَابُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: هَذَا عَرْضُهَا، وَلا يَصِفُ أَحَدٌ طُولَهَا" .
کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بلایا اور کہا: لکھو؛ اللہ کے بندے ابن عباس کی طرف سے فلاں، حبر تیماء کے نام، سلام ہو تم پر، میں اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے کہا: آپ آغاز میں سلام لکھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ ہی سلام ہے۔ پھر فرمایا: لکھو؛ سلام ہو تم پر، اما بعد! مجھے مستقر اور مستودع کے بارے میں خبر دو، اور اس جنت کے بارے میں بتاؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
چنانچہ میں یہ خط لے کر اس یہودی کے پاس گیا اور اسے دیا۔ جب اس نے خط دیکھا تو کہنے لگا: مسلمانوں میں میرے خلیل یعنی دوست کا خط خوش آمدید! پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بہت سی کتابیں نکالنے لگا، انہیں ایک طرف پھینکتا جا رہا تھا اور ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے کہا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: یہ یہود کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے تورات نکالی، اس پر نظر ڈالی اور کہا: مستودع صلب یعنی کمر ہے اور مستقر رحم ہے۔ پھر اس نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ﴾ اور ﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ ۔ اس نے کہا: انسان کا مستقر رحم میں ہے، پھر زمین میں ہے، اور پھر زمین کے نیچے ہے، یہاں تک کہ وہ جنت یا جہنم کی طرف منتقل ہو۔
پھر اس نے دیکھا اور کہا: جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، یعنی سات آسمان اور سات زمینیں، جو ایسے جوڑی جائیں گے جیسے کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ ہے اس کی چوڑائی، اور کوئی اس کی لمبائی بیان نہیں کر سکتا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 898]
چنانچہ میں یہ خط لے کر اس یہودی کے پاس گیا اور اسے دیا۔ جب اس نے خط دیکھا تو کہنے لگا: مسلمانوں میں میرے خلیل یعنی دوست کا خط خوش آمدید! پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بہت سی کتابیں نکالنے لگا، انہیں ایک طرف پھینکتا جا رہا تھا اور ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نے کہا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: یہ یہود کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے تورات نکالی، اس پر نظر ڈالی اور کہا: مستودع صلب یعنی کمر ہے اور مستقر رحم ہے۔ پھر اس نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ﴾ اور ﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾ ۔ اس نے کہا: انسان کا مستقر رحم میں ہے، پھر زمین میں ہے، اور پھر زمین کے نیچے ہے، یہاں تک کہ وہ جنت یا جہنم کی طرف منتقل ہو۔
پھر اس نے دیکھا اور کہا: جنت جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، یعنی سات آسمان اور سات زمینیں، جو ایسے جوڑی جائیں گے جیسے کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ ہے اس کی چوڑائی، اور کوئی اس کی لمبائی بیان نہیں کر سکتا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6556، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 81، 82، 83، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 898»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف إن كان الراوي عن كريب هو حميد بن زياد؛ لضعفه من قبل حفظه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 898 in Urdu