صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
36. ذكر ما يستحب للمرء من ترك سرد الأحاديث حذر قلة التعظيم والتوقير لها-
- اس بات کا ذکر کہ انسان کے لیے احادیث کو مسلسل بیان نہ کرنا مستحب ہے تاکہ تعظیم و توقیر میں کمی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَلا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلُ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: قَوْلُ عَائِشَةَ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، أَرَادَتْ بِهِ سَرْدَ الْحَدِيثِ لا الْحَدِيثَ نَفْسَهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کیا تم لوگوں کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر حیرت نہیں ہوتی ہے؟ وہ میرے حجرے کے ایک طرف آ کر بیٹھتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ مجھے یہ بات سنا رہے ہوتے ہیں، حالانکہ میں اس وقت نوافل ادا کر رہی ہوتی ہوں اور میرے نوافل مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ (احادیث بیان کر کے) اٹھ کر چلے بھی جاتے ہیں۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوتی، تو میں انہیں ٹوکتی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تیزی کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے ہیں، جس طرح تم لوگ تیزی سے بات چیت کرتے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ ”میں انہیں ٹوکتی“، اس سے مراد ان کے تیزی سے روایت بیان کرنے پر ٹوکنا ہے، محض روایت بیان کرنے پر ٹوکنا مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2493، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 100، 7153، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10173، 10174، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3655، 4839، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3639، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5838، 5839، 5840، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25505، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4393، والبزار فى (مسنده) برقم:، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 26821، والترمذي فى "الشمائل"، 223»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (37): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 100 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق