پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
37. ذكر الإخبار عن إباحة جواب المرء بالكناية عما يسأل وإن كان في تلك الحالة مدحه-
- اس خبر کا ذکر کہ انسان کو سوال کا جواب کنایہ میں دینا جائز ہے، اگرچہ اس میں اس کی تعریف ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعِرَّانَةِ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: اعْدِلْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا وَيْلِي! لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”جعرانہ“ میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: آپ عدل سے کام لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہائے افسوس! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا، تو پھر تو میں برے نصیب والا ہو جاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3138، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14785»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (943).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيحين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 101 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري