پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. ذكر الإباحة للعالم إذا سئل عن الشيء أن يغضي عن الإجابة مدة ثم يجيب ابتداء منه-
- اس وضاحت کا ذکر کہ عالم جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد از خود جواب دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 105
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ سَاعَتِهِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ شَيْءٍ، وَلا صَلاةٍ، وَلا صِيَامٍ، أَوْ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ، إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، أَوْ قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ مِثْلَ فَرَحِهِمْ بِهَذَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا۔ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں (یہاں) ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لئے کوئی بڑی تیاری تو نہیں کی، نہ تو نماز کے حوالے سے اور نہ ہی روزے کے حوالے سے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے عرض کی: میں نے کسی بڑے عمل کے حوالے سے تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”تم اس کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3688، 6167، 6171، 7153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1796، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 8، 105، 563، 564، 565، 2988، 2991، 7348، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2385، 2386، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12195، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1224، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38716»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (260/ 352)، ومضى برقم (8).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. الحسن بن الحسن المروزي: قال الحافظ في «التقريب»: صدوق، وباقي السند على شرطهما. وتقدم تخريجه من جميع طرقه برقم (8).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 105 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري