صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. باب سنن الوضوء - ذكر وصف إدخال المتوضئ يده في وضوئه عند ابتداء الوضوء
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والا اپنا ہاتھ وضو کے شروع میں اپنے وضو میں داخل کرے
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوُضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
حمران بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔ انہوں نے برتن میں سے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر انہیں تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کر کے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ناک صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ہر پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر اٹھ کر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان کے دوران وہ اپنے خیالوں میں گم نہ ہو، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، ومالك فى (الموطأ) برقم: 83، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، 1043، 1058، 1060، 1081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، 413، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، 283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407» «رقم طبعة با وزير 1057»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (94): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين عدا عمرو بن عثمان وأباه، والأول صدوق، والثاني ثقة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1060 in Urdu
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان