🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. ذكر الخبر الدال على إباحة إظهار المرء بعض ما يحسن من العلم إذا صحت نيته في إظهاره-
- اس خبر کا ذکر کہ اگر نیت درست ہو تو انسان کے لیے اپنے علم میں سے کچھ ظاہر کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهُمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَبِّرْ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، أَخَذْتَهُ فَيُعْلِيكَ الِلَّهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا"، قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ:" لا تُقْسِمْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے گزشتہ رات ایک بادل دیکھا ہے، جس سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔ کوئی شخص زیادہ لے رہا تھا، اور کوئی کم لے رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی دیکھی۔ پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا، تو وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس شخص کے لیے اسے ملا دیا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تعبیر بیان کرو۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: بادل سے مراد اسلام کا بادل ہے، اور اس سے ٹپکنے والے گھی اور شہد (سے مراد) قرآن ہے، اس کی حلاوت اور نرمی مراد ہے۔ جہاں تک لوگوں کا اسے ہاتھوں میں لینے کا تعلق ہے، تو کچھ لوگ قرآن کا زیادہ علم حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا کم علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک آسمان سے نیچے لٹکنے والی رسی کا تعلق ہے، تو یہ وہ حق ہے، جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ نے اس کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سربلندی عطا فرمائی۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سربلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سربلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو رسی منقطع ہو گئی۔ پھر اس شخص کے لیے اسے ملا دیا گیا، تو اس نے بھی سربلندی حاصل کی۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیے، میرے والد آپ پر قربان ہوں، کیا میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی ہے یا غلط بیان کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر غلط بیان کی ہے، اور کچھ ٹھیک بیان کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قسم نہ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7000، 7046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 111، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7593، 7594، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1919، والحميدي فى (مسنده) برقم: 546، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31121»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (121)، «الظلال» (1143): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 111 in Urdu