صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
87. باب نواقض الوضوء - ذكر الأمر بالوضوء من أكل لحم الجزور ضد قول من نفى عنه ذلك
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو کیا جائے، اس کے برخلاف جو اس کا انکار کرتا ہے
حدیث نمبر: 1124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ". قَالَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" لا" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ اس شخص نے عرض کی: کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اس نے دریافت کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (118): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا بشر بن معاذ العقدي وهو صدوق، أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري، وهو في صحيح ابن خزيمة برقم (31).
الرواة الحديث:
جعفر بن أبي ثور السوائي ← جابر بن سمرة العامري