صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
158. باب الغسل - ذكر الاستحباب للمرأة الحائض استعمال السدر في اغتسالها وتعقيب الفرصة بعده
غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ حائضہ عورت کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے غسل میں سدر استعمال کرے اور اس کے بعد فرصہ استعمال کرے
حدیث نمبر: 1199
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْحَيْضِ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً فَتَوَضَّأَ بِهَا، وَتَطْهُرَ بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" تَطَهَّرِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! اطَّهَّرِي بِهَا". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاجْتَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتْبَعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے آپ سے غسل حیض کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کرے پھر وہ روئی لے کر اس کے ذریعے وضو کرے پاکیزگی حاصل کرے اس نے عرض کی: میں کیسے پاکیزگی حاصل کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو اس نے عرض کی: میں اس کے ذریعے کیسے پاکیزگی حاصل کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک چہرے پر رکھ لیا اور فرمایا سبحان اللہ تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور میں نے اسے بتایا کہ تم اس کے ذریعے خون کے نشانات صاف کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1196»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (331): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق