یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الخبر المصرح بأن سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم كلها عن الله لا من تلقاء نفسه-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تمام سنتیں اللہ کی طرف سے ہیں، آپ ﷺ نے اپنی طرف سے کچھ نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 12
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنِ الْمِقَدْامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ، يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ أَنْ يَقُولَ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ" .
سیدنا مقدام بن معديكرب رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے کتاب عطا کی گئی ہے اور وہ چیز (عطا کی گئی ہے) جو اس کے برابر ہے۔ عنقریب ایسا وقت آئے گا، جب ایک سیر (بھرے ہوئے پیٹ والا) شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: میرے اور تم لوگوں کے درمیان یہ کتاب (یعنی قرآن مجید) موجود ہے، جو چیز اس میں حلال ہو گی، ہم اسے حلال قرار دیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی، ہم اسے حرام قرار دیں گے۔، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) خبردار ایسا نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 12، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 370، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3804، 4604، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2664، والدارمي فى (مسنده) برقم: 606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 12، 3193، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13572، 19527، 19528، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4767، 4768، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17447، 17466، 17467، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24816، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 6409، 6410، 6639، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2815، والطبراني فى(الكبير) برقم: 642، 649، 650، 667، 668، 669، 670»
«قال المبارکفوري: حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
«قال المبارکفوري: حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2869)، «المشكاة» (163).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، مروان بن رؤبة: ذكره المؤلف في "ثقاته" 5/ 425، وباقي رجال الإسناد ثقات. والزبيدي: هو هو محمد بن الوليد أبو الهذيل الحمصي، وابن أبي عوف هو: عبد الرحمن الجُرَشي الحمصي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 12 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي عوف القاضي ← المقدام بن معدي كرب الكندي