صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
210. باب المياه - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا الماء من اللذين ذكرناهما في البابين المتقدمين
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے پچھلے دو ابواب میں ذکر کردہ پانی کے بارے میں ہمارے تأویل کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
حدیث نمبر: 1253
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ الَمْاءُ قُلَّتَيْنِ، لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهُ الإِعْلامُ عَمَّا سُئِلَ عَنْهُ، يَعْنِي: لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ مِمَّا سَأَلَنِي عَنْهُ.
عبیداللہ بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس میں سے درندے اور جانور بھی آ کر پیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ ”جب پانی دو قلے ہو جائے، تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ الفاظ اطلاع دینے کے ہیں۔ اس سے مراد اس چیز کے بارے میں اطلاع دینے کے ہیں جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، ان میں سے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1250»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (23)، «صحيح أبي داود» (56).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي