الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
268. باب التيمم - ذكر إباحة التيمم للعليل الواجد الماء إذا خاف التلف على نفسه باستعماله الماء
تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بیمار شخص جو پانی پاتا ہو، اگر اسے پانی استعمال کرنے سے اپنی جان کے ضیاع کا خوف ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے
حدیث نمبر: 1314
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً عَمَّهُ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ، فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَمَاتَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ؟ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ثَلاثًا قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ، أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا" ، قَالَ: شَكَّ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سردی کے موسم میں جنابت کا شکار ہو گیا۔ اس نے مسئلہ دریافت کیا، تو اسے غسل کرنے کی ہدایت کی گئی (غسل کرنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہو گیا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے اس کو کیوں مروا دیا،اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا)اللہ تعالیٰ نے مٹی کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیمم کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ روایت کے الفاظ میں یہ شک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے شک کے بغیر ذکر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1311»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (365).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الوليد بن عبيد الله: هو ابن أبي رباح بن أخي عطاء بن أبي رباح، ترجمه ابن أبي حاتم 9/ 9، ونقل توثيقه عن يحيى بن معين، وصحح حديثه هذا مع المؤلف شيخه ابن خزيمة (273)، وتلميذه الحاكم 1/ 165، ووافقه الذهبي، وقال الذهبي في «الميزان» 4/ 341: «وضعفه الدارقطني»، وباقي رجاله ثقات، رجال الصحيح، وله طرق أخرى يتقوى بها.
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي