صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. باب الفطرة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو کسی ناواقف محدث کو یہ گمان دے سکتا ہے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خبر کے مخالف ہے۔
حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْهِيَثَمِ وَكَانَ عَاقِلا، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، قَالَ: أَفْضَى بِهُمُ الْقَتْلُ إِلَى أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ خِيَارُكُمْ أَوْلادَ الْمُشْرِكِينَ، مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ حَتَّى يُعْرِبَ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي خَبَرِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ هَذَا:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلامِ" أَرَادَ بِهِ: الْفطْرَةِ الَّتِي يَعْتَقَدْهَا أَهْلُ الإِسْلامِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ حَيْثُ أَخْرَجَ الْخَلْقَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَإِقْرَارُ الْمَرْءِ بِتِلْكَ الْفطْرَةِ مِنَ الإِسْلامِ، فَنَسْبُ الْفطْرَةِ إِلَى الإِسْلامِ عِنْدَ الاعْتِقَادِ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ.
حسن رحمہ اللہ، سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، جو ایک شاعر تھے اور یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس مسجد میں وعظ کہنا شروع کیا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ صورتحال ایسی ہو گئی کہ (مشرکین کے) نابالغ بچوں کو قتل کرنا پڑ گیا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہارے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ جس بھی بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بولنا شروع کرتا ہے تو اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”جس بھی بچے نے پیدا ہونا ہوتا ہے، وہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔“ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس کا اعتقاد اہل اسلام رکھتے ہیں، جس کے بارے میں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (بنی نوع انسان) کو سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا، تو آدمی کا اس فطرت کا اقرار کرنا اسلام کا حصہ ہے، تو اس فطرت کی نسبت اعتقاد کے وقت مجاورت کے طور پر اسلام کی طرف کی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 132، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2581، 2582، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8562، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15828، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33803»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (402).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 132 in Urdu
الحسن البصري ← الأسود بن سريع التميمي