پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
278. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر البيان بأن المسح على الخفين إنما أبيح إذا أدخل المرء رجليه في الخفين وهو على طهور
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ موزوں پر مسح اس وقت جائز ہے جب آدمی اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں موزوں میں داخل کرے
حدیث نمبر: 1325
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ أُنْبِطُ الْعِلَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ الْعِلَمْ، إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ" . قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِينِ، قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفِينِ، إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَلا نَخْلَعُهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلا بَوْلٍ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص علم کے حصول کے لئے گھر سے نکلتا ہے، تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہو کے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔“ زر نے کہا: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں ہم ایک لشکر میں تھے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا، تو آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ جب ہم موزوں کو طہارت کی حالت میں (یعنی وضو کر کے) پہن لیں تو سفر کے دوران تین دن تک ہم ان پر مسح کر سکتے ہیں۔ ہم پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) انہیں نہیں اتاریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 4، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 17، 193، 196، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 85، 562، 1100، 1319، 1320، 1321، 1325، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 339، 340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 126، والترمذي فى (جامعه) برقم: 96، 2387، 2387 م، 3535، 3536، والدارمي فى (مسنده) برقم: 369، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 226، 478، 4070، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18375» «رقم طبعة با وزير 1322»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - مضى (1318). تنبيه!! رقم (1318) = (1321) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1325 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← صفوان بن عسال المرادي