یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
306. باب الحيض والاستحاضة - ذكر الأمر للمستحاضة بتجديد الوضوء عند كل صلاة
حیض اور استحاضہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت وضو تجدید کرے
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ؟ قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِحَيْضٍ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْحَيْضُ، فَدَعِي الصَّلاةَ عَدَدَ أَيَّامِكِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهِ، فَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْتَسِلِي، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاةٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک دو ماہ تک استحاضہ کا شکار رہتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے، جب حیض آ جائے، تو تم اپنے ان مخصوص ایام میں نماز کو ترک کر دو جن ایام میں تمہیں پہلے حیض آیا کرتا تھا اور جب وہ دن گزر جائیں تو تم غسل کر کے ہر نماز کے لئے وضو کر لیا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 228، 306، 320، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 198، وابن الجارود فى "المنتقى"، 123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1348، 1350، 1354، 1355، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 622، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 280، 281، 282، والترمذي فى (جامعه) برقم: 125، والدارمي فى (مسنده) برقم: 801، 806، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 620، 621، 624، والدارقطني فى (سننه) برقم: 787، 788، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24779» «رقم طبعة با وزير 1351»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (281 و 313).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين خلا محمد بن علي بن الحسن، وهو ثقة، أبو حمزة: هو محمد بن ميمون السكري، وقد تابعه على هذا الحرف: «توضئي لكل صلاة» أبو معاوية عند البخاري ...
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1354 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق