صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
323. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر الدال على أن شعر الإنسان طاهر إذا وقع في الماء لم ينجسه وإن كان على الثوب لم يمنع الصلاة فيه
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کے بال طاہر ہیں، اگر وہ پانی میں گر جائیں تو اسے نجس نہیں کرتے، اور اگر کپڑے پر ہوں تو اس میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتے
حدیث نمبر: 1371
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْفَزَارِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبُدْنِ، فَنُحِرَتْ وَالْحَلاقُ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ شَعْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَقِّ جَانِبِهِ الأَيْمَنِ عَلَى شَعْرِهِ"، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاقِ:" احْلِقْ" فَحَلَقَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ يَوْمَئِذٍ بَيْنَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ النَّاسِ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى جَانِبِ شِقِّهِ الأَيْسَرِ عَلَى شَعْرِهِ"، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاقِ:" احْلِقْ"، فَحَلَقَ، فَدَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" فِي قِسْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ شَعْرَ الإِنْسَانِ طَاهِرٌ، إِذِ الصَّحَابَةُ إِنَّمَا أَخَذُوا شَعْرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَبَرَّكُوا بِهِ، فَبَيْنَ شَادٍ فِي حُجْزَتِهِ، وَمُمْسِكٍ فِي تِكَّتِهِ، وَآخِذٍ فِي جَيْبِهِ، يُصَلُّونَ فِيهَا، وَيَسْعَوْنَ لِحَوَائِجِهِمْ وَهِيَ مَعَهُمْ، وَحَتَّى إِنَّ عَامَّةً مِنْهُمْ أَوْصَوْا أَنْ تُجْعَلَ تِلْكَ الشَّعَرَةُ فِي أَكْفَانِهِمْ وَلَوْ كَانَ نَجِسًا لَمْ يَقْسِمْ عَلَيْهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْءَ النَّجِسَ وَهُوَ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ يَتَبَرَّكُونَ بِهِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا، فَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحَّ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِهِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ، وَمِنْ أُمَّتِهِ ذَلِكَ الشَّيْءُ بِعَيْنِهِ نَجِسًا.
محمد بن سیرین، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ کے حکم کے تحت قربانی کے اونٹوں کو نحر کر دیا گیا۔ سر مونڈنے والا شخص آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے بال سیدھے کئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کے دائیں طرف والے حصے کو اپنی مٹھی میں لیا اور حجام سے کہا: تم مونڈھ دو اس نے انہیں مونڈھ دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال اس دن اپنے پاس موجود افراد میں ایک، ایک دو، دو کر کے تقسیم کر دیئے پھر آپ نے اپنے بائیں طرف والے بال مٹھی میں لئے اور حجام سے کہا: انہیں مونڈ دو تو اس نے وہ مونڈ دیئے۔ آپ نے سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ انہیں دے دیئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اصحاب کے درمیان اپنے بال تقسیم کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ انسان کا بال پاک ہوتا ہے کیونکہ صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک حاصل کیے تھے تاکہ اس کے ذریعے برکت حاصل کریں، تو کسی نے اسے اپنے تہہ بند میں رکھ لیا۔ کسی نے اسے اپنے میں پکڑ لیا۔ کسی نے گریبان میں رکھ لیا اور وہ لوگ ان کے سمیت نماز ادا کرتے تھے اور وہ اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے اور موئے مبارک ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے زیادہ تر نے وصیت کی کہ ان موئے مبارک کو ان کے کفن میں رکھا جائے۔ اگر یہ بال ناپاک ہوتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ناپاک چیز لوگوں میں تقسیم نہ کرتے۔ جبکہ آپ کو اس بات کا علم بھی تھا کہ وہ اس طرح سے برکت حاصل کریں گے جس طریقے کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات مستند طور پر ثابت ہے، تو آپ کی امت کے حوالے سے بھی یہ بات مستند ہو گی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ ایک چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پاک ہو اور آپ کی امت کی طرف سے وہی چیز بعینہ ناپاک ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1371]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1368»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1730): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن عبد الرحمن بن سهم الأنطاكي: ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 87، وقال: يروي عن ابن المبارك وأبي إسحاق الفزاري، حدثنا عنه عمر بن سعيد بن سنان وغيره من شيوخنا، ربما أخطأ، ووثقه الخطيب في «تاريخه» 1/ 310 - 311، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين، وأبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث بن أسماء بن خارجة الفزاري الإمام الحافظ الثقة. تنبيه!! قول الشيخ شعيب «في الأصل حدثنا أبو يعلى» أي كلمة حدثنا وقعت قبل أبو يعلى هكذا: أخبرنا أحمد بن علي بن المثنى حدثنا أبو يعلى؟! ولذلك قال الشيخ: فأبو يعلى هو أحمد بن علي بن المثنى. - مدخل بيانات الشاملة -.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الفزاري ← هشام بن حسان الأزدي | إمام ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنطاكي محمد بن عبد الرحمن الأنطاكي ← إبراهيم بن محمد الفزاري | ثقة | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← محمد بن عبد الرحمن الأنطاكي | ثقة مأمون |
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري