صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
352. باب تطهير النجاسة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم نهى الأعرابي الذي وصفناه عن البول في المسجد بعد استعماله ما وصفنا
نجاست کو پاک کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی کو، جسے ہم نے بیان کیا، مسجد میں پیشاب کرنے سے منع کیا اس کے بعد کہ اس نے ہمارے بیان کردہ عمل کیا
حدیث نمبر: 1402
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَلَمْحَمَّدٍ، وَلا تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا" . ثُمَّ تَنَحَّى الأَعْرَابِيُّ، فَبَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فِي الإِسْلامِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ إِنَّمَا هُوَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلاةِ، وَلا يُبَالُ فِيهِ"، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس دیہاتی نے کہا: اے اللہ! تو میری اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کر دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ایک کھلی چیز کو تنگ کر دیا ہے“، پھر وہ دیہاتی ایک طرف ہٹا اور مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا، بعد میں جب اس دیہاتی کو اسلامی تعلیمات کا علم حاصل ہو گیا، تو اس نے یہ کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ فرمایا تھا: ”یہ مساجد اللہ کا ذکر کرنے اور نماز ادا کرنے کے لیے ہیں، ان میں پیشاب نہ کیا جائے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 220، 6010، 6128، وابن الجارود فى "المنتقى"، 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 297، 298، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 985، 987، 1399، 1400، 1402، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 56، وأبو داود فى (سننه) برقم: 380، 882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 147، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 529، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7375» «رقم طبعة با وزير 1399»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (406).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1402 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي