الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثامن ينفي الريب عن الخلد بأن تارك الصلاة متعمدا من غير نسيان ولا نوم ولا وجود عذر حتى يخرج وقتها لا يكون كافرا
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - آٹھویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر بھولنے، سونے یا عذر کے، جان بوجھ کر نماز کو اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا کافر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1462
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِيهِمْ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْهُمُ الأَحْزَابُ:" أَلا لا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ"، فَأَبْطَأَ نَاسٌ، فَتَخَوَّفُوا فَوْتَ وَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلُّوا، وَقَالَ آخَرُونَ: لا نُصَلِّي إِلا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ فَاتَ الْوَقْتُ، فَمَا عَنَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَوْ كَانَ تَأْخِيرُ الْمَرْءِ لِلصَّلاةِ عَنْ وَقْتِهَا إِلَى أَنْ يَدْخُلَ وَقْتُ الصَّلاةِ الأُخْرَى يَلْزَمُهُ بِذَلِكَ اسْمُ الْكُفْرِ، لَمْا أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي يَكْفُرُونَ بِفِعْلِهِ، وَلَعَنَّفَ فَاعِلَ ذَلِكَ، فَلَمْا لَمْ يُعَنِّفْ فَاعِلَهُ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ كُفْرًا يُشْبِهُ الارْتِدَادِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (غزوہ احزاب کے موقع پر جب دشمن) کے لشکر واپس چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں حکم دیا خبردار! کوئی بھی شخص ظہر کی نماز بنو قریظہ (کے علاقے) میں پہنچنے سے پہلے ہرگز ادا نہ کرے کچھ لوگوں کو جانے میں تاخیر ہو گئی انہیں نماز کا وقت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے نماز ادا کر لی دوسرے لوگوں نے یہ کہا: ہم اسی طرح نماز ادا کریں گے۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کا نماز میں اتنی تاخیر کر دینا کہ اگلی نماز کا وقت شروع ہو جائے۔ اگر ایسا کرنے کے نتیجے میں اس پر کفر کا اطلاق لازم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو کسی ایسی چیز کی تعلیم نہ دیتے جس کو کرنے کی وجہ سے وہ لوگ کافر ہو جاتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مرتکب شخص پر شدید انکار کا اظہار کرتے۔ آپ کا اس پر شدید انکار کا اظہار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا شخص اس طرح سے کافر نہیں ہوتا جو مرتد ہونے سے مشابہت رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1460»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (311): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي